اب تو بس ایک ہی دھن ہے کے مدینہ دیکھوں(نعت شریف)
جب زندگی کی شام ہو، اور روح حضور ﷺ کے در کی طرف دیکھنے لگے — تب دل یہی صدا دیتا ہے: دنیا کی رونقیں کچھ نہیں، بس مدینہ چاہیے آج کی نعت ایک عاشقِ رسول ﷺ کی آخری تمنا کا ترجمان ہے، جو ہر دل کو رُلا دے گی۔ "آخری وقت میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں اس نے بھی مدینہ دیکھ لیا اُس نے بھی مدینہ دیکھ لیا سرکار! کبھی تو میں بھی کہوں، "میں نے بھی مدینہ دیکھ لیا" اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں مینوں مجبوریان تے دوریاں نے ماریا ساڈھ لو مدینے آقا ﷺ، کرو مہربانیاں تُسّاں تے ہے ڈیرہ، میں توں بڑی دور لا لیا ساڈھ لو مدینے آقا ﷺ، کرو مہربانیاں اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں پھر کرم ہو گیا، میں مدینے چلا جھومتا جھومتا، میں مدینے چلا ساقیا! مہ پلا، میں مدینے چلا مست و بےخود بنا، میں مدینے چلا میرے آقا کا در ہوگا پیشِ نظر چاہیے اور کیا؟ میں مدینے چلا اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں اک روز ہوگا جانا سرکار کی گلی میں ہوگا وہیں ٹھکانہ، سرکار کی گلی میں اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں میں کہاں ہوں یہ سمجھ لوں تو اٹھاؤں نظری...