Posts

اب تو بس ایک ہی دھن ہے کے مدینہ دیکھوں(نعت شریف)

 جب زندگی کی شام ہو، اور روح حضور ﷺ کے در کی طرف دیکھنے لگے — تب دل یہی صدا دیتا ہے: دنیا کی رونقیں کچھ نہیں، بس مدینہ چاہیے آج کی نعت ایک عاشقِ رسول ﷺ کی آخری تمنا کا ترجمان ہے، جو ہر دل کو رُلا دے گی۔ "آخری وقت میں کیا رونقِ دنیا دیکھوں اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں  اس نے بھی مدینہ دیکھ لیا اُس نے بھی مدینہ دیکھ لیا سرکار! کبھی تو میں بھی کہوں، "میں نے بھی مدینہ دیکھ لیا" اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں مینوں مجبوریان تے دوریاں نے ماریا ساڈھ لو مدینے آقا ﷺ، کرو مہربانیاں تُسّاں تے ہے ڈیرہ، میں توں بڑی دور لا لیا ساڈھ لو مدینے آقا ﷺ، کرو مہربانیاں اب تو بس ایک ہی دھن ہے کہ مدینہ دیکھوں    پھر کرم ہو گیا، میں مدینے چلا جھومتا جھومتا، میں مدینے چلا ساقیا! مہ پلا، میں مدینے چلا مست و بےخود بنا، میں مدینے چلا میرے آقا کا در ہوگا پیشِ نظر چاہیے اور کیا؟ میں مدینے چلا اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں اک روز ہوگا جانا سرکار کی گلی میں ہوگا وہیں ٹھکانہ، سرکار کی گلی میں اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں میں کہاں ہوں یہ سمجھ لوں تو اٹھاؤں نظری...

اج یاد مدینہ آیا اے

دل بے قرار ہو جائے جب مدینہ یاد آ جائے، تو آنکھوں سے اشک بن کر عشقِ مصطفیٰ ﷺ بہنے لگتا ہے۔ آج کی نعت مدینہ کی یاد، رسولِ پاک ﷺ کی مہک اور دل کی تڑپ کا آئینہ ہے۔ آئیے عشقِ مدینہ ﷺ کے ان جذبات میں ڈوب جائیں۔ اج یاد مدینہ آیا اے  رج رج کے مینوں رون دیو  لوکی پھلاں دے ہار پروندے نیں  مینوں ہنجواں دے ہار پرون دیو  رو رو عرضاں کراں درباناں نوں میرا آؤنا فیر مقدراں دا جالی دے کول کھلون دیو اکھیاں دے نیر جدائی وچ دن رات وہاۓ جاندے نیں  خوش بختاں نوں محبوباں دے دیدار کراۓ جاندے نیں  کعبے دا دوارا کی آکھاں روضے دا نظارہ کی آکھاں ایتھے درد سناۓ جاندے نیں اوتھے درد ونڈاۓ جاندے نیں  رب کرے مدینے نوں جاواں میں رو رو عرضاں کراں درباناں نوں  میرا آؤنا فیر مقدراں دا  جالی نوں سینے لاؤن دیو تانگ مدینے والی رکھدے نیں سارے  آقا دے غلام جیہڑے یارو بھاویں ماڑے سوہنا اوناں نوں وی در تے بلائی جاندا اے لکھاں ماڑیاں دی بگڑی بنائی جاندا اے لجپال سوہنا کرم کمائی جاندا اے لکھاں ماڑیاں نوں سینے نال لائی جاندا اے  میرے جۓ نکمے نوں وی آقا دا سہارا اے آقا دیاں رحمت...

سوۓ طیبہ جانے والو مجھے چھوڑ کر نہ جانا

 "مدینے کی گلیاں، آقا ﷺ کا در، وہ روشن فضائیں جہاں دل کو سکون ملتا ہے — کیا آپ کبھی دل سے مدینہ جانے کی تمنا رکھتے ہیں؟ آئیے آج کی نعت میں انہی جذبات کو محسوس کرتے ہیں۔ عشقِ رسول ﷺ سے لبریز نعت پیشِ خدمت ہے، جو دلوں کو جھنجھوڑ دے گی۔ سوۓ طیبہ جانے والو مجھے چھوڑ کر نہ جانا  میری آنکھوں کو دکھا دو شہِ دیں کا آستانہ ہیں وہ جالیاں سنہری میری حسرتوں کا محور وہ سنبھال مجھ کو لیں گے وہ ہیں خاص میرے رہبر مجھے پہنچ کر مدینے نہیں لوٹ کر ہے آنا میں تڑپ رہا ہوں تنہا میری بے بسی تو دیکھو میں اسیر رنج و غم ہوں میری بے کلی تو دیکھو ذرا روضہ نبی کا مجھے راستہ دکھانا در مصطفیٰ پہ میری جب حاضری لگے گی مجھے پھر کرم سے انکے نئی زندگی ملے گی میرے لب پہ رات دن ہے شہہ بطحہ کا ترانہ کوئی کل کا ایک پل کا نہیں کچھ بھی ہے بھروسہ مجھے ہم سفر بنا لو کہیں رہ نہ جاؤں تنہا در مصطفیٰ ہے عشرت میرا آخری ٹھکانہ اگر آپ کے دل میں بھی دیدارِ مصطفیٰ ﷺ کی تڑپ ہے، تو اس نعت کو اپنے دل سے پڑھیں، اور دوسروں تک پہنچائیں۔ یاد رکھیں! مدینہ صرف مقام نہیں، وہ تو عاشقوں کا خواب ہے — اور ہم سب کی منزل بھی

ہے تیرا تصور تیری لگن دل تجھ سے لگاۓ بیٹھے ہیں

 جب دل کو قرار نہ رہا، روح بےچین ہو گئی، تب دل نے صدا دی — یا مرشدی ، تیرا تصور، تیری لگن ہی تو ہمارا سکون ہے۔ ایک منقبت  پیشِ خدمت ہے، جو دل کو عشقِ مرشد کی خوشبو سے معطر کر دے گی۔ ہے تیرا تصور تیری لگن دل تجھ سے لگاۓ بیٹھے ہیں  اک یاد میں تیری جان جہاں ہم خود کو بھلاۓ بیٹھے ہیں  جھکتی ہے نظر سجدے کے لئے ہوتی ہے نماز عشق ادا معراج عبادت کیا کہئیے وہ سامنے آۓ بیٹھے ہیں  نظروں کا تقاضا پورا کرو اک بار تو جلوہ دکھلاؤ ہم اہل نظر کے دیوانے امید لگاۓ بیٹھے ہیں تسلیم و رضا کی منزل میں دل جان تو کوئی چیز نہیں  ہم تیری اداؤں پر مرشد بس خود کو لٹاۓ بیٹھے ہیں دیکھو تو ذرا یہ بھولا پن اس ناز ادا کو کیا کہیے  دل لے کے ہمارا محفل میں اب رخ کو چھپاۓ بیٹھے ہیں  "اگر آپ بھی یاد مرشد سے دل کو روشن رکھنا چاہتے ہیں، تو اس منقبت کو ضرور شیئر کریں۔ مرشد کی یاد میں ڈوبی منقبتیں ہمارے دلوں کو جلا بخشتی ہیں — ۔

بہر دیدار مشتاق ہے ہر نظر دونوں عالم کے سرکار آ جائیے

 یہ نعت ایک عاشقِ رسول ﷺ کے دل کی پکار ہے، جو حضور ﷺ کے دیدار کے لیے بے چین ہے، اور سراپا التجا بن کر انہیں بُلا رہا ہے — کہ وہ دونوں جہانوں کے سردار آ جائیں  بہرِ دیدار مشتاق ہے ہر نظر  دونوں عالم کے سرکارآجائیے  چاندنی رات ہے اور پچھلا پہر  دونوں عالم کے سرکار آجائیے  سدرۃ المنتہیٰ، عرش وباغِ ارم  ہر جگہ پڑچکے ہیں نشانِ قدم  اب تو اک بار اپنے غلاموں کے گھر  دونوں عالم کے سرکار آجائیے  شامِ امید کا اب سویرا ہوا  شہرِ طیبہ نگاہوں کا ڈیرا ہوا  بچھ گئے راہ میں فرشِ قلب ونظر  دونوں عالم کے سرکار آجائیے  سامنے جلوہ گر پیکرِ نور ہو  منکروں کا بھی سرکار شک دور ہو  کرکے تبدیل اک دن لباسِ بشر  دونوں عالم کے سرکار آجائیے  دل کا ٹوٹا ہوا آبگینہ لیے  جذبۂ اشتیاقِ مدینہ لیے  کتنے گھائل کھڑے ہیں سرِ رہ گزر  دونوں عالم کے سرکار آجائیے  میرے گلشن کو اک بار مہکائیے  اپنے جلوئوں کی بارش میں نہلائیے  دیدۂ شوق کو کیجئے بہرہ ور  دونوں عالم کے سرکار آجائیے  تاابد اپنی ...

میرے سامنے تو بیٹھا، کیا پیوں میں جام مرشد – نعت اردو میں

میرے سامنے تو بیٹھا، کیا پیوں میں جام مرشد — یہ وہ نعت کا مصرع ہے جو محبت، عقیدت اور روحانی کیفیت کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ اس کلام میں مرشد کے دیدار کی مستی اور عشق کی انتہا نظر آتی ہے۔ جو بھی اسے سنتا یا پڑھتا ہے، ایک روحانی کیف میں ڈوب جاتا ہے۔ آئیے اس خوبصورت نعت کا مکمل اردو کلام پڑھتے ہیں۔ میرے سامنے تو بیٹھا کیا پیوں میں جام مرشد  مجھے ہوش نہ نشے کی جو اٹھے نقاب مرشد  کروں رقص کیوں نہ پی کر نظروں سے تیری مرشد مہہ عاشقوں کی تو ہے یہ تیرا شباب مرشد  ڈوبا ہوں تب سے تجھ میں بھولا ہوں کب سے خود کو ہیں جام کتنے خالی نہ کرو حساب مرشد بند آنکھ ہو رہی ہے کچھ اور بھی پلا دو میں خمار عاشقی کا تو میرا جواب مرشد میں کروں تلاش کیسے تیرے مہ کدے سے اعلیٰ  نہ میرا سوال ایسا نہ تیرا جواب مرشد  اگر آپ کو یہ نعت پسند آئی ہو تو اسے دوسروں کے ساتھ ضرور شیئر کریں، تاکہ وہ بھی اس عشق و عقیدت کے پیغام سے فیضیاب ہو سکیں۔

انکا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نعت رسول مقبول ﷺ ہماری روح کی غذا ہے  کچھ اشعار صرف لفظ نہیں ہوتے بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلے وہ احساس ہوتے ہیں   جو صرف محبوب ﷺ کے ذکر پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔ آج کی نعت اُن پاک ہستیوں کی بارگاہ میں پیش ہے   جن کے در پر صرف جانے کی اجازت بھی نصیب والوں کو ملتی ہے..   انکا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے   یہ حوالے مجھے رسوا نہیں ہونے دیتے   میرے ہر عیب کی کرتے ہیں وہ پردہ پوشی میرے جرموں کو تماشا نہیں ہونے دیتے  اپنے منگتوں کی وہ فہرست میں رکھتے ہیں مجھے مجھ کو محتاج کسی کا نہیں ہونے دیتے  بات کرتا ہوں تو سانسوں سے مہک آتی ہے میرے لہجے کو وہ میلا نہیں ہونے دیتے  انکا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے  یہ حوالے مجھے رسوا نہیں ہونے دیتے  یہ اشعار صرف ایک عاجزانہ حاضری ہیں اُس دَر پر، جہاں لفظوں سے پہلے دل بولتا ہے، اور مانگنے سے پہلے عطا ہو جاتی ہے۔ ،اللہ ہمیں حضور ﷺ کے دربار کا سچا ادب اور اُن کی بارگاہ میں مقبول فقیری عطا فرمائے۔ اللّٰھم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد